صاحب سلامت
معنی
١ - علیک سلیک، سلام دعا۔ "نہ اُن کی تیوری پر بل آیا اور نہ انہوں نے اس شخص نامعقول سے صاحب سلامت ترک کی۔" ( ١٩٨٧ء، قومی زبان، کراچی، اکتوبر، ٢٥ ) ٢ - معمولی تعارف، جان پہچان، ملاقات، رسمی ملاقات۔ "ملنساری اور صاحب سلامت . آداب معاشرت اور روزمرہ کی ضروریات سے سامان عیش و راحت فراہم کرتے ہیں۔" ( ١٩٧٠ء، برش قلم، ١٣٥ ) ٣ - ملاقات کی رسوم کی ادائی، دعا سلام۔ "دونوں جہازوں میں جھنڈی سے صاحب سلامت ہوئی۔" ( ١٨٨١ء، تہذیب الاخلاق، ١٩٧ )
اشتقاق
عربی زبان سے مرکب نسبتی ہے۔ عربی میں اسم فاعل 'صاحب' کے ساتھ عربی ہی سے اسم مشتق 'سلامت' ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٧٣٩ء کو "کلیاتِ سراج" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - علیک سلیک، سلام دعا۔ "نہ اُن کی تیوری پر بل آیا اور نہ انہوں نے اس شخص نامعقول سے صاحب سلامت ترک کی۔" ( ١٩٨٧ء، قومی زبان، کراچی، اکتوبر، ٢٥ ) ٢ - معمولی تعارف، جان پہچان، ملاقات، رسمی ملاقات۔ "ملنساری اور صاحب سلامت . آداب معاشرت اور روزمرہ کی ضروریات سے سامان عیش و راحت فراہم کرتے ہیں۔" ( ١٩٧٠ء، برش قلم، ١٣٥ ) ٣ - ملاقات کی رسوم کی ادائی، دعا سلام۔ "دونوں جہازوں میں جھنڈی سے صاحب سلامت ہوئی۔" ( ١٨٨١ء، تہذیب الاخلاق، ١٩٧ )